ط سے طوطا* یا ت سے توتا*



کچھ اہل علم کا اصرار ہے

ط سے طوطا نہیں ہوتا  ت سے توتا ہوتا ہے ، ط سے طوطا غلط العام ہو چکا ہے اور  ت سے توتا لکھنا صحیح ہے ہے ۔   اشفاق احمد نے توتا کہانی لکھی ہے ۔

گیارویں  کلاس کی اُردُو کی کتاب جس میں ایک سبق ہے "دوستی کا پھل" جس کا مصنف شفیع عقیل ہے ، اس سبق میں بھی لفظ ت سے توتا لکھا ہوا ہے

یہ بڑی دلچسپ بحث ہے اور اہل علم اس پر متفق نہیں ۔

سنیے اہل علم کی راے

 *ڈاکٹر فضل اللہ مکرم* 

'طوطا' غلط العوام ہے پھر بھی یہی مروج ہے ۔ رشید حسن خان نے ایسے کئی الفاظ کی فہرست بنائی ہے اور اس کا صحیح املا بھی دیا ہے مگر نقٓار خانہ میں طوطی(توتی) کی آواز ! اردو املا کا مسئلہ اردو عوام کی طرح بڑا مضحکہ خیز ہے۔ لیکن سچ کہا جائے تو ط سے طوطا ہی اچھا لگتا ہے یعنی اس کی چونچ ط سے قریب قریب مشابہ ہوتی ہے۔


مکرم نیاز

۔۔۔ ""  سچ کہا جائے تو ط سے طوطا ہی اچھا لگتا ہے یعنی اس کی چونچ ط سے قریب قریب مشابہ ہوتی ہے۔""

یہ غالباً عصر حاضر کے سب سے بڑے مزاح نگار یوسفی کا قولِ زریں ہے


ڈاکٹر اسلم فاروقی

نے بھی کہا تھا کہ طوطا ط سے ہی اچھا اور مٹھو بیٹا لگتا ہے *ت سے توتو نیلا توتا ملا زہر لگتا ہے* 


انشاللہ خان انشاء نے اپنی کتاب دریا لطافت میں لکھا کہ جو لفظ اردو میں مشہور ہوگیا وہ اردو کا ہوگیا چاہے وہ عربی، فارسی، ترکی،۔ پنجابی کسی زبان کا ہو اصل کی رو سے صحیح ہو یا غلط اردو کا ہوا۔ اگر اصل کے خلاف ہے تو بھی صحیح ہے اور اگر اصل کے مطابق ہے تو بھی صحیح ہے۔ 


پنڈت کیفی نے انشاللہ خان انشاء کی کتاب ا پر یہ تبصرہ کیا اور قلم توڑ دیا فرماتے ہیں "اردو زبان کی تدوین اور تزنین کے بہت طریقے اور اصول بنائے گیے لیکن جو طریقہ انشاء نے دریافت کیا وہی فلسفہ زبان کا سرتاج ہے "


جیسے صحیح لفظ پیش گوئی ہے


لیکن مستعمل

پیشن گوئی ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

غم بھری زندگی میں خوش رہنے کا طریقہ 👍