ملے پارٹیوں کو نشاں کیسے کیسے انتخابی نشان کوئی پیار کی نشانی تو ہے نہیں کہ اک شہنشاہ نے بنواکے حسیں تاج محل، دنیا والوں کو محبت کی نشانی دے ہی دی ہے تو وہ ہمیشہ کے لیے دنیا والوں کی ہوگئی۔ ایک ادارہ ہے الیکشن کمیشن، ویسے تو ’ہیں اور بھی دنیا میں کمیشن بہت اچھے‘، جیسے وہ کمیشن جو کھایا جاتا ہے اور دوسرا جو اس کھانے کی تحقیقات کے لیے بنایا جاتا ہے اور پھر پتا ہی نہیں چلتا ’کہاں سے آیا کدھر گیا وہ‘، الیکشن کمیشن کو کھایا نہیں جاسکتا، البتہ کھانے پکانے میں اس کی اہمیت وہی ہے جو آگ کی، یعنی اس کے بغیر نہ کھچڑی پک سکتی ہے، نہ دال گَل سکتی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ الیکشن کمیشن ہے تو انتخابات ہی کرواتا ہے، نکاح تو کروانے سے رہا۔ یہ ادارہ دیگر انتخابی فرائض انجام دینے کے علاوہ سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشانات بھی دیتا ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ سیاسی جماعتوں کو ’آ میری رانی لے جا چَھلّا نشانی‘ گاکر بلایا اور نشانات تھمادیے جاتے ہوں گے۔ نہیں بھئی، پوری سنجیدگی اور بڑے اہتمام سے یہ فریضہ ادا کیا جاتا ہے۔ رانی کو چھلّا نشانی دے دی سو دے دی، مگر الیکشن کمیشن کے ’راجا‘ دی ہوئی نشانی واپس بھی...